سائنس دانوں نے دنیا کی طاقتور ترین شمسی دوربین کی مدد سے سورج کی سطح کی اب تک کی سب سے واضح اور ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کر لی ہیں، جنہوں نے سورج کے اندر جاری پیچیدہ اور پوشیدہ عمل کو بے مثال تفصیل کے ساتھ آشکار کر دیا ہے۔
امریکی National Science Foundation کی جدید ترین Daniel K. Inouye Solar Telescope کے ذریعے سورج پر موجود ایک بڑے سن اسپاٹ کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق سن اسپاٹس سورج کے وہ علاقے ہوتے ہیں جہاں طاقتور مقناطیسی میدانوں کی وجہ سے شمسی سرگرمیاں سب سے زیادہ شدت اختیار کرتی ہیں اور یہی مقامات اکثر شمسی طوفانوں اور طاقتور سولر فلیئرز کی ابتدا بنتے ہیں۔
جاری کی گئی تصاویر اور ٹائم لیپس ویڈیو میں سورج کی فوٹو سفیئر، یعنی اس کی نظر آنے والی سطح، کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وہ باریک تہہ ہے جہاں شدید گرم پلازما اور طاقتور مقناطیسی میدان مسلسل حرکت میں رہتے ہیں اور سورج کی پیچیدہ ساخت تشکیل دیتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نئی تصاویر سورج کے اندر جاری طبیعیاتی عمل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔ اس تحقیق سے مستقبل میں زمین پر اثر انداز ہونے والے شمسی طوفانوں، سیٹلائٹ سسٹمز، بجلی کے گرڈز اور مواصلاتی نظام پر پڑنے والے اثرات کی پیش گوئی کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
