پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے گمشدہ، لاوارث اور شناخت سے محروم افراد کو ان کے اہل خانہ تک پہنچانے کے لیے “میری پہچان” کے نام سے ایک جدید اور انسان دوست منصوبہ متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے افراد کی شناخت ممکن بنانا ہے جو کسی حادثے، بیماری یا ذہنی کیفیت کے باعث اپنا تعارف کرانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
ہر سال پنجاب بھر میں ایسے متعدد واقعات پیش آتے ہیں جہاں حادثات میں زخمی ہونے والے افراد، ذہنی معذور شہری، بھولنے کی بیماری میں مبتلا بزرگ، لاپتا بچے یا بے ہوش مریض ہسپتالوں، سڑکوں یا عوامی مقامات پر ملتے ہیں، لیکن شناخت نہ ہونے کے باعث ان کے اہل خانہ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے “میری پہچان” منصوبے کے تحت پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی جدید فیشل ریکگنیشن (Facial Recognition)، ویئر اباؤٹ میچنگ (Whereabouts Matching) اور نادرا کی بائیومیٹرک فنگر پرنٹ ویریفکیشن جیسی جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرتی ہے تاکہ گمشدہ افراد، لاوارث مریضوں، ذہنی معذور شہریوں اور حتیٰ کہ لاوارث لاشوں کی بھی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نادرا کے تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب بہت سے افراد کو ان کے اہل خانہ سے دوبارہ ملایا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ایک شہری کی شناخت بحال کرتا ہے بلکہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملانے اور ان کے دکھ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کہیں کوئی گمشدہ بچہ، ذہنی معذور شخص، بھولنے کی بیماری میں مبتلا بزرگ، بے ہوش مریض یا کوئی لاوارث لاش نظر آئے تو فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں، تاکہ متعلقہ ٹیم بروقت کارروائی کرتے ہوئے شناخت کے عمل کو مکمل کر سکے۔
حکام کے مطابق “میری پہچان” صرف ایک ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، شہریوں کی مدد اور بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملانے کی ایک اہم سماجی کاوش ہے۔
