سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، مرحوم ریٹائرڈ ملازم کی پنشن پر کس کا حق؟ عدالت نے واضح کر دیا

0
1

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مرحوم ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوت شدہ ریٹائرڈ ملازم کی پنشن اور متعلقہ مالی مراعات پر قانونی حق صرف بیوہ یا قانون کے مطابق نامزد شخص کا ہوگا، محض قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر بہن بھائی اس کے حقدار نہیں بن سکتے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جاری کیے گئے چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ پنشن وراثت کا حصہ نہیں بلکہ ایک قانونی اور سروس رولز کے تحت ملنے والا حق ہے، جس کی ادائیگی متعلقہ قوانین اور ادارے کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کسی ریٹائرڈ ملازم کا انتقال ہو جائے تو پنشن کی ادائیگی صرف اسی شخص کو ہوگی جو قانون یا متعلقہ ادارے کے قواعد کے تحت اس کا مستحق قرار پاتا ہو۔ صرف وراثت میں نام شامل ہونے سے بہن بھائی پنشن کے حق دار نہیں بن جاتے۔

یہ فیصلہ ایک مرحوم پیسکو ملازم کے کیس میں سنایا گیا، جس میں متوفی کے بہن بھائیوں نے وراثتی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پنشن اور مراعات کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

ماہرینِ قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں پنشن سے متعلق اسی نوعیت کے مقدمات کے لیے ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہوگا اور اس سے سرکاری اداروں میں پنشن کی ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق قانونی ابہام بھی کافی حد تک دور ہو جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا