ملک میں بڑھتی مہنگائی، معاشی دباؤ اور مالی مشکلات کے باعث متعدد شہری اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے سونے کے زیورات گروی رکھ کر قرض لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تاہم اب ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بہت سے قرض لینے والے مقررہ مدت میں رقم واپس ادا نہ کر سکنے کے باعث اپنے زیورات چھڑانے سے قاصر ہیں، جس کے بعد گروی رکھے گئے زیورات بینکوں یا مالیاتی اداروں کے ضابطوں کے مطابق نیلامی کے عمل میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
سونے کے عوض قرض (Gold Loan) ایک ایسی سہولت ہے جس کے تحت شہری اپنے زیورات بطور ضمانت جمع کرا کے فوری قرض حاصل کرتے ہیں۔ اگر مقررہ مدت کے اندر قرض اور اس پر عائد منافع یا سروس چارجز ادا نہ کیے جائیں تو معاہدے کی شرائط کے مطابق ادارے زیورات کی نیلامی کر سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق بلند مہنگائی، اشیائے خور و نوش کی بڑھتی قیمتیں، بے روزگاری اور آمدنی میں اضافے کی سست رفتار نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں بہت سے خاندان اپنے قیمتی زیورات بھی واپس حاصل نہیں کر پا رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کے زیورات اکثر خاندانوں کی برسوں کی جمع پونجی اور جذباتی اثاثہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی نیلامی صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ کئی خاندانوں کے لیے ایک جذباتی صدمہ بھی ثابت ہوتی ہے۔
بینکاری ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ قرض لینے سے پہلے واپسی کی صلاحیت، قرض کی شرائط، منافع کی شرح اور نیلامی سے متعلق قواعد کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔
اگرچہ ہر بینک یا مالیاتی ادارے کے قواعد مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور مالی آگاہی میں اضافہ ہی ایسے مسائل کے دیرپا حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
