ملک میں مہنگائی کا دباؤ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عوام پر اخراجات کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 0.91 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی سالانہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 8 اشیا سستی ہوئیں، جبکہ 21 اشیا کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ہائی اسپیڈ ڈیزل 15.87 فیصد اور پیٹرول 5.23 فیصد مہنگا ہوگیا۔
اسی طرح سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا بھی عوام کی پہنچ سے مزید دور ہوتی دکھائی دیں۔ ٹماٹر کی قیمت میں 39.92 فیصد، انڈوں میں 7.31 فیصد، آلو میں 3.70 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 0.91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ لہسن، بیف اور دیگر کئی ضروری اشیا بھی مہنگی ہوئیں۔
تاہم کچھ اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق چکن 4.66 فیصد اور کیلے 1.72 فیصد سستے ہوئے، جبکہ چینی، چاول اور مختلف دالوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات آئندہ ہفتوں میں دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
