سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

0
2

ریاض/صنعاء: سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم آج کی معتبر رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کی باقاعدہ افواج کے براہِ راست آمنے سامنے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی بندرگاہوں پر آنے یا وہاں سے سامان لے جانے والے جہازوں سے گریز کریں، بصورت دیگر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد بحیرہ احمر اور باب المندب کی آبی گزرگاہ میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے کم از کم دو ٹینکرز نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے باب المندب کے بجائے نہرِ سویز کا رخ کیا، جبکہ سعودی حکام نے اپنی بحری تجارت اور جہازوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے بحری ناکہ بندی کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی جہاز رانی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور خلیج تعاون کونسل (GCC) نے بھی حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور حوثیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی تیل کی ترسیل اور تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اہم وضاحت: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یہ دعوے کہ “سعودی اور یمنی افواج براہِ راست آمنے سامنے آ چکی ہیں”، ان کی آج تک کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے تصدیق نہیں کی۔ موجودہ صورتحال میں کشیدگی بنیادی طور پر حوثیوں کی دھمکیوں، بحری سلامتی اور خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ سے متعلق ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا