اسلام آباد: حکومت اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز/ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات میں پیٹرول پمپ مالکان نے حکومت کے مجوزہ روزانہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ عمل قرار دیا۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ موجودہ کمیشن کے ساتھ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا اور ڈیلرز پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث ہڑتال کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیلرز کا فی لیٹر کمیشن اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جبکہ روزانہ قیمتوں کی تبدیلی سے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روزانہ قیمتوں کے نظام پر نظرثانی کی جائے، ڈیلرز کا کمیشن بڑھایا جائے اور دیگر آپریشنل مسائل بھی فوری حل کیے جائیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی۔ اس اعلان کے بعد مختلف شہروں میں شہریوں نے احتیاطاً اپنی گاڑیوں کی ٹینکیاں بھرانے کے لیے پیٹرول پمپوں کا رخ کرنا شروع کر دیا، جس کے باعث متعدد مقامات پر رش دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اپنے زیرِ انتظام آؤٹ لیٹس (Company Owned & Company Operated) کھلے رہ سکتے ہیں، تاہم نجی ملکیت والے ہزاروں پیٹرول پمپ ہڑتال کی کال کا حصہ بن سکتے ہیں۔
