یومِ استحصالِ کشمیر: 5 اگست کی قومی تقریبات کی تیاریاں تیز، مؤثر حکمتِ عملی پر زور

0
2

اسلام آباد: قائم مقام وفاقی سیکرٹری برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کامران رحمان خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ہونے والی قومی تقریبات کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس سال یومِ استحصالِ کشمیر کو پہلے سے زیادہ مؤثر، جامع اور مربوط انداز میں منایا جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور مختلف قومی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی اپنی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ شرکاء نے مجوزہ تقریبات، باہمی رابطہ کاری، میڈیا مہمات اور دیگر سرگرمیوں کے کامیاب انعقاد کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

کامران رحمان خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے تمام متعلقہ وزارتوں، محکموں اور اداروں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے تاکہ ہر سرگرمی منظم انداز میں مکمل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو قومی سطح پر بھرپور انداز میں منانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں 5 اگست کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگاہی مہم، سفارتی رابطوں اور مختلف تقریبات کے انعقاد کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یاد رہے کہ پاکستان ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر مناتا ہے۔ یہ دن بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت، جو آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کے تحت حاصل تھی، ختم کیے جانے کے اقدام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں سیمینارز، ریلیاں، میڈیا مہمات اور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اجلاس میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، وزارتِ مواصلات، وزارتِ تعلیم، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی)، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی)، پیمرا، سی ڈی اے، پی ٹی اے، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے)، لوک ورثہ، کمشنر آفس اسلام آباد، کمشنر آفس راولپنڈی، اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا