🇭🇹 اقوام متحدہ میں ہیٹی کے رہنما کا منفرد انداز، تقریر کے دوران جگ سے پانی پینے کی کوشش، کپڑے بھیگ گئے

0
4

ایڈگار لی بلان فِس ستمبر 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے، جہاں وہ ہیٹی میں جاری شدید سکیورٹی اور انسانی بحران،نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہیٹی کے عبوری صدارتی کونسل کے سربراہ ایڈگار لی بلان فِس اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے جب تقریر کے دوران انہوں نے پانی پینے کے لیے گلاس کے بجائے میز پر رکھا ہوا بڑا پانی کا جگ ہی اٹھا لیا۔ مسلح گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اپنے ملک کے لیے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت پر بات کر رہے تھے۔ تقریر کے دوران جب انہیں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے جگ اٹھا کر براہِ راست پانی پینے کی کوشش کی، تاہم جگ میں موجود پانی کی مقدار اور وزن کے باعث توازن برقرار نہ رہ سکا اور پانی ان کے ہاتھوں اور لباس پر گر گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی سیاسی بیان یا سفارتی تنازع کے بجائے محض ایک غیر متوقع انسانی لمحے کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کر گیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے پر مختلف میمز اور تبصرے سامنے آئے، تاہم بعض صارفین نے اس مذاق کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمولی انسانی غلطی تھی۔

ایڈگار لی بلان فِس کی اصل تقریر کا مرکز تاہم ایک انتہائی سنگین مسئلہ تھا۔ انہوں نے عالمی برادری سے ہیٹی میں امن و سلامتی کی بحالی کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا اور ملک میں جاری گینگ تشدد، انسانی حقوق کی صورتحال اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی جیسے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی حمایت اور ایک مضبوط سکیورٹی کوشش کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس وقت ہیٹی ایک شدید سیاسی، سکیورٹی اور انسانی بحران سے گزر رہا تھا، جبکہ مسلح گروہوں کا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس سمیت مختلف علاقوں میں بڑھ چکا تھا۔ اقوام متحدہ بھی ہیٹی میں سکیورٹی، انسانی امداد اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون پر زور دیتا رہا ہے۔

یوں اقوام متحدہ کے انتہائی رسمی ماحول میں پانی کے ایک جگ سے پیدا ہونے والا چند سیکنڈ کا یہ غیر متوقع منظر دنیا بھر میں وائرل ہوگیا، لیکن اس واقعے کے پس منظر میں ہیٹی کا وہ سنگین بحران موجود تھا جس پر ایڈگار لی بلان فِس اپنی پوری تقریر میں عالمی برادری کی توجہ دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا