امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 ستمبر 2026 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا، تاہم اسی خطاب میں انہوں نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا امکان بھی برقرار رکھا۔ ان کی تقریباً 37 منٹ کی تقریر میں ایران، یوکرین جنگ، مصنوعی ذہانت، اقوامِ متحدہ اور امریکی خارجہ پالیسی سمیت کئی اہم عالمی معاملات زیرِ بحث آئے۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور اقتصادی تعاون کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن ان کے بقول تہران نے اسے قبول نہیں کیا۔
تاہم خطاب کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں دو ممکنہ راستوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سامنے فیصلہ ہے کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جائے جس سے وہ دوبارہ تعمیر ہو سکے، یا پھر امریکی کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران پر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے زور دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی اور تیل کی منڈیوں کے لیے بھی اہم بن چکی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل میں مدد کی ہے اور جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ظاہر کی۔
ٹرمپ نے روس اور یوکرین کی جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تشدد ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کے اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا۔
خطاب کا ایک غیر معمولی حصہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی سرکاری دستاویزات میں Artificial Intelligence کے بجائے “Super Intelligence” کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے AI کو مستقبل کی انتہائی اہم ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے امریکی برتری برقرار رکھنے پر زور دیا، جبکہ عالمی سطح پر AI کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔
البتہ ماہرین کے مطابق “superintelligence” مصنوعی ذہانت کی موجودہ تمام ٹیکنالوجی کے لیے عام متبادل اصطلاح نہیں ہے۔ یہ عموماً ایسی فرضی یا مستقبل کی AI صلاحیت کے لیے استعمال ہوتی ہے جو تقریباً تمام علمی شعبوں میں انسانی ذہانت سے کہیں آگے ہو۔
یوں ٹرمپ کا اقوامِ متحدہ کا خطاب ایک طرف ایران کے خلاف سخت امریکی مؤقف اور فوجی کارروائی کے دفاع پر مبنی تھا، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور مذاکرات کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ خطاب میں یوکرین جنگ اور مصنوعی ذہانت نے بھی عالمی سطح پر امریکی پالیسی کے اہم نکات کی شکل اختیار کی۔
