سندھ اسمبلی کا ایک حالیہ منظر سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے، جہاں رکنِ سندھ اسمبلی محمد شبیر قریشی ایک قرارداد انگریزی میں پڑھتے ہوئے مختلف الفاظ کے تلفظ میں الجھتے دکھائی دیے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پر دلچسپ اور طنزیہ تبصرے شروع کردیے اور بعض صارفین نے مذاقاً یہاں تک کہہ دیا کہ شاید انگریزی کے یہ نئے انداز Oxford Dictionary تک پہنچنے والے ہیں۔
دستیاب ویڈیو سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کے رکن محمد شبیر قریشی قرارداد پڑھتے ہوئے انگریزی کے الفاظ کا تلفظ بار بار مختلف انداز میں کرتے رہے، جس کے بعد اسمبلی کا یہ لمحہ سوشل میڈیا پر ایک ہلکے پھلکے موضوع میں تبدیل ہوگیا۔
محمد شبیر قریشی سندھ اسمبلی کے موجودہ رکن ہیں اور سرکاری اسمبلی ریکارڈ کے مطابق ان کا تعلق حلقہ PS-114 کیماڑی-IV سے ہے۔ وہ 2024 میں موجودہ اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے جبکہ اس سے قبل بھی 2018 سے 2023 تک سندھ اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کی تعلیمی قابلیت B.Sc درج ہے۔
وائرل ویڈیو میں انگریزی الفاظ پڑھنے کے انداز نے سوشل میڈیا صارفین کو طنز و مزاح کا موقع ضرور فراہم کیا، لیکن کسی منتخب نمائندے کے انگریزی تلفظ کو اس کی قانون سازی کی صلاحیت کا حتمی پیمانہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ پارلیمانی ایوان کا اصل مقصد قانون سازی، عوامی مسائل پر بحث اور حکومت سے جواب طلبی ہے۔ سندھ اسمبلی کے ارکان کا بنیادی کردار بھی یہی ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل ایوان میں پیش کریں اور حکومتی اقدامات پر بحث کریں۔
تاہم اس واقعے نے ایک دلچسپ بحث ضرور چھیڑ دی ہے: اگر ایک رکن اسمبلی کسی غیر ملکی زبان میں قرارداد یا تحریر پڑھ رہا ہو اور تلفظ میں دشواری پیش آئے تو کیا اس کا مذاق اڑانا چاہیے یا اسے محض ایک انسانی غلطی سمجھنا چاہیے؟
سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں یہ دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے کہ انگریزی کے ان نئے تلفظوں اور الفاظ کو محفوظ کرنے کے لیے Oxford University کی ٹیم سندھ پہنچنے والی ہے۔ لیکن یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس دعوے کی کوئی معتبر یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اسے حقیقی خبر کے بجائے سوشل میڈیا کے طنزیہ ردِعمل کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔
اصل واقعہ بہرحال اس بات کی یاد دہانی ضرور کراتا ہے کہ پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے الفاظ کی درست ادائیگی اہم ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب کوئی رکن کسی دوسری زبان میں قرارداد پڑھ رہا ہو۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ قرارداد کا مقصد کیا ہے، اس میں عوامی مسئلہ کیا اٹھایا گیا ہے اور حکومت سے کیا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یوں ایک معمولی سا پارلیمانی لمحہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ بحث بن گیا۔ کسی نے اسے انگریزی تلفظ کی مشکل قرار دیا، کسی نے اسے سیاسی مزاح کا موضوع بنایا اور کسی نے طنزیہ انداز میں Oxford Dictionary تک نئے الفاظ پہنچانے کا اعلان کردیا۔
البتہ آکسفورڈ کی ٹیم کے سندھ آنے کی خبر فی الحال حقیقت نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے مزاح کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ واقعہ ایک اور دلچسپ حقیقت بھی سامنے لاتا ہے: آج کے دور میں پارلیمان کا ایک مختصر سا لمحہ بھی کیمرے میں محفوظ ہو کر چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، اور پھر وہی لمحہ سیاسی بحث، طنز اور تفریح—تینوں کا موضوع بن جاتا ہے۔
