🦖 بالغ T. rex کے قدموں کے نشانات: 6 کروڑ 65 لاکھ سال پرانا راز دوبارہ زندہ

0
3

امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں ماہرینِ حیاتیات کو ایسی دریافت ہوئی ہے جس نے ڈائنوسارز کی دنیا کے بارے میں سائنس دانوں کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ یہاں ایک بالغ Tyrannosaurus rex کے مسلسل چار قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں، جو تقریباً 66.5 ملین سال یعنی 6 کروڑ 65 لاکھ سال پرانے ہیں۔ یہ صرف چند فوسلائزڈ قدموں کے نشان نہیں بلکہ ایک مکمل مختصر سا ٹریک وے ہے، جس میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خوفناک شکاری کس طرح چلتا ہوا اس مقام سے گزرا تھا۔

یہ حیرت انگیز آثار جنوبی مغربی نارتھ ڈکوٹا کی Hell Creek Formation میں دریافت ہوئے، وہی علاقہ جو ڈائنوسارز کے آخری دور کے بے شمار فوسلز کے لیے مشہور ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ ٹریک وے تقریباً 23 فٹ یا 7 میٹر لمبا ہے اور اس میں دو بائیں اور دو دائیں پاؤں کے واضح نشانات موجود ہیں۔ ہر قدم کا نشان تقریباً 3 فٹ یا 0.9 میٹر لمبا ہے، جو اس جانور کے غیر معمولی جسامت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نشانات کے درمیان تقریباً 13 فٹ کا فاصلہ موجود ہے۔ اسی فاصلے اور قدموں کی ترتیب کا تجزیہ کرکے محققین نے اندازہ لگایا کہ یہ T. rex تقریباً 3.5 سے 4.5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا، یعنی تقریباً 5.6 سے 7.2 کلومیٹر فی گھنٹہ۔ دوسرے لفظوں میں، اس خاص موقع پر یہ دیوہیکل شکاری پوری رفتار سے شکار کے پیچھے نہیں بھاگ رہا تھا بلکہ ایک نسبتاً تیز رفتار چال سے آگے بڑھ رہا تھا۔

یہ دریافت اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ ماضی میں T. rex سے منسوب انفرادی قدموں کے نشانات تو سامنے آئے تھے، لیکن ایک بالغ T. rex کے مسلسل کئی قدموں پر مشتمل ایسا ٹریک وے پہلے واضح طور پر سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وجہ سے یہ فوسل سائنس دانوں کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ جانور کتنا بڑا تھا، بلکہ اس کے حرکت کرنے کے انداز اور رفتار کے بارے میں بھی براہِ راست معلومات فراہم کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دریافت کے پیچھے صرف جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک عام انسان کی غیر معمولی مشاہداتی صلاحیت بھی شامل تھی۔ رپورٹس کے مطابق Kent Hups نامی کولوراڈو کے ایک اسکول ٹیچر اور میوزیم رضاکار نے ان نشانات کو نوٹس کیا۔ بعد میں Denver Museum of Nature & Science اور Liverpool John Moores University کے ماہرین نے ان کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دریافت کی اعلیٰ ریزولوشن 3D اسکیننگ بھی کی گئی، جس سے ماہرین ان قدموں کو مزید تفصیل سے محفوظ اور تجزیہ کر سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے: آخر یہ T. rex جا کہاں رہا تھا؟

اس کا حتمی جواب ابھی کسی کے پاس نہیں، لیکن علاقے میں ملنے والے دوسرے فوسلز اس وقت کے ماحول کی ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ Hell Creek Formation سے T. rex کے ساتھ ساتھ Triceratops سمیت دوسرے ڈائنوسارز کے فوسلز بھی ملے ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ یہ ٹریک کسی ایسے قدیم ماحول میں بنا ہو جہاں خوراک اور دوسرے جانور وافر مقدار میں موجود تھے۔ تاہم صرف قدموں کے نشانات سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ T. rex کسی خاص جانور کا تعاقب کر رہا تھا۔

یہ قدموں کے نشانات تقریباً 66.5 ملین سال پہلے کے ہیں، یعنی اس وقت کے جب کریٹیشس دور اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد وہ تباہ کن واقعہ پیش آیا جس نے غیر پرندہ ڈائنوسارز سمیت زمین کی بے شمار انواع کا خاتمہ کر دیا۔

یوں یہ چار قدم صرف پتھر پر بنے ہوئے نشان نہیں بلکہ ایک ایسے لمحے کا منجمد ریکارڈ ہیں جو کروڑوں سال پہلے رونما ہوا تھا۔

ایک T. rex اپنے زمانے کے منظرنامے میں چل رہا تھا، اس کے ہر قدم نے نرم زمین پر ایک گہرا نشان چھوڑا، پھر وقت گزرتا گیا، زمین کی تہیں بدلتی گئیں، وہ دنیا ختم ہوگئی، اور کروڑوں سال بعد انہی قدموں نے دوبارہ انسانوں کو اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔

سائنس دانوں کے لیے یہ دریافت اس لیے قیمتی ہے کہ ہڈی ہمیں بتاتی ہے کہ جانور کیسا تھا، لیکن قدموں کے نشانات ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ چلتا کیسے تھا۔

اور شاید یہی اس دریافت کا سب سے حیران کن پہلو ہے: ہم آج بھی 6 کروڑ 65 لاکھ سال پہلے گزرنے والے ایک T. rex کے قدم گن سکتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا