ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں واقع Karahan Tepe ایک بار پھر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہاں 2026 کی حالیہ کھدائی کے دوران تقریباً 11 ہزار سال پرانی ایک غیر معمولی مورتی دریافت ہوئی ہے، جس میں ایک انسانی شکل کو ایک تیندوے کی پشت پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تقریباً 70 سینٹی میٹر، یعنی 2.3 فٹ بلند یہ مجسمہ ماہرین کے مطابق اس مقام پر اپنی نوعیت کی ایک منفرد دریافت ہے، کیونکہ اس سے پہلے Karahan Tepe میں انسان کو اس انداز میں کسی جانور پر سوار دکھانے والی مثال سامنے نہیں آئی تھی۔
یہ دریافت ایک ایسی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے جس نے ابھی تحریر ایجاد نہیں کی تھی۔ یعنی آج سے تقریباً گیارہ ہزار سال پہلے یہاں رہنے والے لوگوں نے اپنے خیالات، عقائد اور شاید مذہبی تصورات کو الفاظ کے بجائے پتھر پر نقش و نگار اور مجسموں کے ذریعے ظاہر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مورتی کو سمجھنا ماہرین کے لیے انتہائی دلچسپ، لیکن مشکل کام ہے، کیونکہ اسے بنانے والے لوگ اپنے پیچھے کوئی تحریری وضاحت نہیں چھوڑ گئے۔
مجسمہ جس مقام سے ملا، وہاں تقریباً تین میٹر چوڑی ایک تعمیر شدہ جگہ موجود تھی جس کا فرش چپٹے پتھروں سے بنایا گیا تھا، جبکہ مورتی دیوار کے ساتھ بنی ایک پتھریلی نشست یا پلیٹ فارم پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مجسمہ محض ایک عام سجاوٹی چیز نہیں تھا بلکہ اسے کسی خاص مقصد کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔ تاہم ماہرین ابھی یہ حتمی طور پر نہیں بتا سکتے کہ یہ مورتی کسی مذہبی رسم، عقیدے، سماجی شناخت یا کسی مخصوص داستان کی نمائندگی کرتی تھی۔
اس دریافت کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ Karahan Tepe میں اس سے پہلے انسان اور تیندوے کا ایک بالکل مختلف مجسمہ بھی مل چکا ہے۔ 2021 میں دریافت ہونے والی اس قدیم مورتی میں ایک انسان اپنی پشت پر تیندوے کو اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ نئی دریافت میں صورتحال تقریباً الٹ گئی ہے: اب انسان تیندوے کے اوپر بیٹھا ہوا ہے۔
یہ مماثلت ماہرین کے لیے خاصی دلچسپ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں مجسمے لازماً ایک ہی کہانی کا حصہ تھے۔ دونوں الگ مواقع پر دریافت ہوئے ہیں اور ابھی تک کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں جو انہیں ایک ہی روایت یا داستان سے جوڑ سکے۔ البتہ یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس قدیم معاشرے کے فن میں انسان اور تیندوے کا تعلق ایک اہم علامتی موضوع ہو سکتا تھا۔
آخر تیندوا ہی کیوں؟
ماہرین کے مطابق اس خطے میں تیندوے حقیقی شکاری جانور تھے اور قدیم انسان کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہو سکتے تھے۔ اسی لیے ممکن ہے کہ تیندوے کی تصویر طاقت، خطرے، بہادری، شکار، اختیار یا کسی روحانی تصور کی علامت رہی ہو۔ لیکن یہ تمام امکانات ہیں، ثابت شدہ حقائق نہیں۔ تحریری ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کسی ایک تشریح کو حتمی قرار دینا ابھی ممکن نہیں۔
کچھ ماہرین نے اس منظر کو انسان اور جانور کے درمیان طاقت یا تعلق کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ ایک ممکنہ تشریح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انسان کا تیندوے پر بیٹھنا جانور پر غلبے یا اس کی طاقت کو اپنے اندر سمو لینے کی علامت ہو، جبکہ دوسرے ماہرین اسے کسی مذہبی یا رسمی تصور سے جوڑنے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ مورتی کا اصل مقصد ابھی ایک راز ہے۔
Karahan Tepe خود بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل مقام ہے۔ یہ جنوبی ترکی کے Taş Tepeler نامی قدیم آثارِ قدیمہ کے وسیع خطے کا حصہ ہے اور مشہور Göbekli Tepe سے تقریباً 22 میل مشرق میں واقع ہے۔ یہاں موجود بڑے پتھریلے ڈھانچے، ستون، جانوروں کے نقش اور انسانی مجسمے اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے کے شکاری اور ابتدائی آبادکار پیچیدہ اجتماعی اور ممکنہ طور پر مذہبی سرگرمیوں کے لیے بڑی تعمیرات اور فن پارے تیار کر رہے تھے۔
Karahan Tepe میں باقاعدہ کھدائی نسبتاً حالیہ برسوں میں شروع ہوئی اور 2019 سے یہاں تحقیق جاری ہے۔ اس دوران انسانی چہروں، انسانی جسموں اور مختلف خطرناک جانوروں سے متعلق کئی غیر معمولی فن پارے سامنے آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جیسے جیسے مزید دریافتیں سامنے آ رہی ہیں، ویسے ویسے اس قدیم معاشرے کے فن اور علامتی زبان کو سمجھنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
لیکن اس نئی مورتی کا سب سے بڑا راز شاید یہی ہے کہ انسان تیندوے پر کیوں بیٹھا ہے؟
کیا یہ طاقت کی علامت تھی؟
کیا یہ کسی قدیم مذہبی رسم کا حصہ تھا؟
کیا یہ کسی شکاری، روحانی پیشوا یا افسانوی کردار کی تصویر تھی؟
یا پھر اس منظر کا ایسا مطلب تھا جسے ہم آج، گیارہ ہزار سال بعد، بالکل سمجھنے سے قاصر ہیں؟
ابھی ان سوالات کے حتمی جوابات موجود نہیں۔
اور شاید یہی چیز اس دریافت کو اتنا دلچسپ بناتی ہے۔
ایک ایسے دور میں جب نہ تحریر موجود تھی، نہ کتابیں اور نہ ہی ہمارے موجودہ انداز کا کوئی تاریخی ریکارڈ، ایک قدیم انسان نے پتھر پر اپنی دنیا کا ایک منظر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
گیارہ ہزار سال بعد وہ منظر ہمارے سامنے ہے، لیکن اسے بنانے والے انسان کا اصل پیغام اب بھی خاموش ہے۔
اور ممکن ہے Karahan Tepe کی آئندہ کھدائیاں اس خاموش پیغام کو سمجھنے کے لیے کوئی نیا سرا فراہم کر دیں۔
