دماغ خود نیند کیسے شروع کرتا ہے؟ سائنس دانوں نے دماغ کے انتہائی نایاب خلیوں کا اہم کردار دریافت کرلیا

0
5

ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ جب رات کو نیند آتی ہے تو دماغ کے اندر موجود کچھ گہرے حصے ہمیں بیداری سے نیند کی طرف لے جاتے ہیں، جبکہ دماغ کا بیرونی حصہ، یعنی cerebral cortex، اس عمل میں زیادہ تر خاموش تماشائی ہوتا ہے۔ لیکن ایک نئی تحقیق نے اس پرانے تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ سائنس دانوں نے دماغ کے cortex میں موجود انتہائی نایاب اعصابی خلیوں کی ایک قسم دریافت کی ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کی سرگرمی کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور نیند کو فروغ دینے میں براہِ راست کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ تحقیق 9 ستمبر 2026 کو جریدے Nature میں شائع ہوئی۔

تحقیق میں جن خلیوں پر توجہ مرکوز کی گئی انہیں Sst-Chodl neurons کہا جاتا ہے۔ یہ مخصوص قسم کے inhibitory neurons ہیں، یعنی ایسے اعصابی خلیے جو دوسرے neurons کی سرگرمی کو کم یا منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خلیے cortex میں تعداد کے اعتبار سے انتہائی کم ہیں، لیکن ان کے اعصابی رابطے بہت وسیع ہیں۔ ان کے لمبے axons دماغ کے cortex کے دور دور تک موجود حصوں تک پہنچتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بیک وقت کئی علاقوں کی سرگرمی کو مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں نے چوہوں میں ان خلیوں کی سرگرمی کا مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ neurons زیادہ تر کم بیداری یا نیند جیسی حالتوں میں فعال ہوتے ہیں، جبکہ زیادہ بیداری اور چوکنے پن کے دوران ان کی سرگرمی بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد محققین نے تجرباتی طور پر ان مخصوص خلیوں کو فعال کیا۔ نتیجہ حیران کن تھا: cortex کے مختلف حصوں میں neuronal activity زیادہ ہم آہنگ ہونے لگی اور جانوروں میں نیند کو فروغ ملا۔ دوسرے لفظوں میں، ان خلیوں کو فعال کرنے سے دماغ میں وہ سرگرمی پیدا ہونے لگی جو کم بیداری اور نیند کے دوران عام طور پر دیکھی جاتی ہے۔

یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ نیند کے بارے میں روایتی سائنسی تصور میں دماغ کے subcortical یا گہرے حصوں کو نیند اور بیداری کے بنیادی کنٹرولرز میں شمار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ cortex کو بڑی حد تک ان سگنلز کا پیروکار سمجھا جاتا تھا۔ نئی تحقیق اس تصویر کو بدل رہی ہے۔ اب شواہد بڑھ رہے ہیں کہ cortex صرف نیند کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو قبول نہیں کرتا بلکہ خود بھی نیند کی کیفیت پیدا کرنے اور برقرار رکھنے میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس تحقیق کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان Sst-Chodl neurons کا کام صرف کسی ایک چھوٹے حصے تک محدود نظر نہیں آتا۔ ان کے وسیع رابطے انہیں مختلف cortical علاقوں کو ایک ہی تال میں لانے کے قابل بناتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہی cortical synchrony نیند سے وابستہ کم فریکوئنسی دماغی سرگرمی پیدا کرنے میں اہم ہو سکتی ہے۔ تجربات میں ان خلیوں کو فعال کرنے سے نیند شروع ہونے میں لگنے والا وقت بھی کم ہوا اور slow-wave sleep میں اضافہ دیکھا گیا۔

یہ دریافت نیند کے ایک اور اہم پہلو کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ نیند صرف جسم کو آرام دینے کا نام نہیں بلکہ دماغ کے لیے بھی ایک فعال بحالی کا مرحلہ ہے۔ اس دوران دماغ میں اعصابی رابطوں کی تنظیم، سیکھنے کی صلاحیت اور یادداشت سے متعلق اہم عمل جاری رہتے ہیں۔ اسی سال ایک الگ تحقیق میں سائنس دانوں نے چوہوں کے cortex میں مخصوص on/off neural activity پیدا کرکے یہ دکھایا کہ بیدار حالت میں بھی مقامی طور پر نیند جیسی سرگرمی پیدا کرنے سے نیند کے بعض اہم فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ نیند سے محرومی کے بعد memory consolidation بھی بہتر ہوئی۔

ایک اور حالیہ تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ دماغ کے کچھ مخصوص neurons طویل عرصے تک جاگنے کے دوران فعال ہو کر sleep drive کو بڑھاتے ہیں۔ یعنی جتنا زیادہ وقت انسان یا جانور بیدار رہتا ہے، اتنا ہی دماغ کے مخصوص neural circuits نیند کی ضرورت کا سگنل مضبوط کر سکتے ہیں۔

یوں ایسا لگتا ہے کہ نیند کسی ایک “سوئچ” کو بند کرنے کا نام نہیں، بلکہ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان ایک انتہائی پیچیدہ اور منظم تعاون کا نتیجہ ہے۔ کچھ neurons ہمیں بیدار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، کچھ نیند کی طلب پیدا کرتے ہیں، اور اب سامنے آنے والے شواہد بتا رہے ہیں کہ cortex کے اندر موجود مخصوص نایاب neurons دماغ کے مختلف حصوں کو ہم آہنگ کرکے نیند کی کیفیت کو آگے بڑھانے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم ایک اہم احتیاط ضروری ہے: موجودہ Nature تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے، اس لیے اسے براہِ راست انسانوں پر لاگو کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ سائنس دانوں نے انسانوں میں نیند کا مکمل “آن/آف سوئچ” دریافت کر لیا ہے۔ البتہ یہ دریافت اس بنیادی سوال کے جواب کے قریب ضرور لے جا رہی ہے کہ آخر دماغ بیداری سے نیند کی طرف کیسے منتقل ہوتا ہے۔

اور شاید اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ جس حصے کو ہم کبھی نیند کے معاملے میں محض ایک پیروکار سمجھتے تھے، وہ ممکن ہے اس پورے عمل میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہو۔

یعنی جب ہم آنکھیں بند کرتے ہیں اور دنیا سے بے خبر ہو کر سو جاتے ہیں، اس وقت ہمارا دماغ خاموش نہیں ہوتا۔ اس کے اندر اربوں اعصابی خلیے ایک پیچیدہ تال میں کام کر رہے ہوتے ہیں—اور اب سائنس دان اس تال کو پیدا کرنے والے مزید اہم کرداروں کو پہچاننا شروع کر رہے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا