جرائم کی خبریں سنانے والی سابق ٹی وی میزبان، آج خود سزائے موت کی سزا یافتہ!

0
3

قاہرہ: مصر میں جرائم اور سکیورٹی سے متعلق پروگرام کی سابق معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ کو منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کے ایک بڑے مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی۔ قاہرہ کی فوجداری عدالت نے سارہ خلیفہ سمیت 12 ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ حتمی نہیں اور ملزمان کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

39 سالہ سارہ خلیفہ مصر میں “Mission Impossible” نامی پروگرام کی میزبانی کے باعث شہرت رکھتی تھیں، جس میں جرائم، سکیورٹی اور جرائم سے متعلق واقعات کو موضوع بنایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا خود ایک سنگین فوجداری مقدمے میں سزائے موت پانا مصر میں خاصی توجہ کا باعث بنا ہے۔

استغاثہ کے مطابق سارہ خلیفہ اور دیگر ملزمان پر ایک منظم جرائم پیشہ گروہ تشکیل دینے، بیرونِ ملک سے ایسے خام مال کی درآمد کرنے جس سے مصنوعی منشیات تیار کی جاتی تھیں، منشیات بنانے اور انہیں اسمگل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گروہ نے منشیات کی تیاری اور تقسیم کے لیے باقاعدہ مختلف ذمہ داریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔

تحقیقات کے دوران حکام نے 750 کلوگرام سے زائد منشیات اور خام مال برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ دو رہائشی اپارٹمنٹس کو مبینہ طور پر منشیات کی تیاری کے لیے استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا، جبکہ غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

یہ مقدمہ مجموعی طور پر 28 ملزمان کے خلاف تھا۔ عدالت نے 12 افراد کو سزائے موت، 9 کو عمر قید سنائی جبکہ 7 ملزمان کو بری کر دیا۔ استغاثہ نے اپنے مقدمے کے حق میں 20 گواہوں کے بیانات کے علاوہ پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز سمیت تکنیکی و ڈیجیٹل شواہد بھی پیش کیے۔

سارہ خلیفہ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا۔ عدالت میں ان کے موقف کے مطابق انہوں نے منشیات سے کسی تعلق سے انکار کیا تھا۔ انہیں اپریل 2025 میں اس کیس کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

مصر کے قانون کے تحت سزائے موت کے مقدمات میں عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے سے قبل گرینڈ مفتیٔ مصر سے مذہبی رائے لینا ایک قانونی طریقہ کار ہے۔ یہ رائے مشاورتی ہوتی ہے، جبکہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا راستہ بھی موجود ہے۔

یوں جرائم کی خبریں اور سکیورٹی کے واقعات ٹی وی پر بیان کرنے والی ایک معروف میڈیا شخصیت خود ایک ایسے مقدمے میں موت کی سزا تک پہنچ گئی جس نے مصر کے میڈیا اور عوام میں خاصی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا