نواز شریف کے بیرونِ ملک چیک اَپ کی خبریں، عمران خان کے علاج پر پابندیوں کے سوالات پھر اٹھ گئے

0
3

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر دوہرا معیار زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرونِ ملک طبی معائنے کے لیے سنگاپور جانے کی اطلاعات زیرِ گردش ہیں، تاہم اس سفر کی حتمی اور آزادانہ تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

لیکن اصل سوال نواز شریف کے سفر سے بھی بڑا ہے۔

اگر کسی سابق وزیراعظم کو اپنی صحت کے حوالے سے بیرونِ ملک طبی سہولیات حاصل کرنے کی آزادی حاصل ہے تو پھر ایک دوسرے سابق وزیراعظم، عمران خان، کے علاج اور طبی معائنے کے معاملے میں اتنی پیچیدگیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟

حالیہ دنوں میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش سامنے آئی۔ سپریم کورٹ نے انہیں طبی معائنے اور علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، لیکن انہیں PIMS لے جایا گیا اور چند گھنٹوں بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ماہر ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیا، جبکہ عمران خان کے خاندان، وکلا اور حامی اس طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ عمران خان کے طبی علاج پر تشویش صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ دنیا کے کئی سابق کرکٹ کپتانوں نے بھی پاکستانی حکومت سے ان کے مناسب اور انسانی بنیادوں پر طبی علاج کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

اب عوام کا سوال بالکل سادہ ہے:

کیا پاکستان میں علاج کی سہولتیں صرف طاقتور اور بااثر لوگوں کے لیے ہیں؟

اگر ایک سابق وزیراعظم بیرونِ ملک علاج یا طبی معائنے کا انتخاب کر سکتا ہے تو دوسرے سابق وزیراعظم کو اپنے ملک میں بھی شفاف، آزادانہ اور مکمل طبی معائنے کا حق کیوں نہیں ملنا چاہیے؟

یہاں تنقید کسی فرد کے بیرونِ ملک علاج کے حق پر نہیں ہونی چاہیے۔ جس شخص کو طبی ضرورت ہو، اسے جہاں بہتر علاج دستیاب ہو وہاں علاج کرانے کا حق ہونا چاہیے۔ اصل مسئلہ برابری، شفافیت اور یکساں معیار کا ہے۔

عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سرکاری وسائل کس کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بیرونِ ملک علاج کی ضرورت کس بنیاد پر طے ہوتی ہے اور کیا عام پاکستانی کو بھی وہی طبی سہولت میسر ہے جو حکمران طبقے کو حاصل ہے؟

اور اگر کسی سیاسی شخصیت کے بیرونِ ملک سفر کو سرکاری خزانے سے جوڑا جا رہا ہے تو اس کے اخراجات، مقصد اور طبی ضرورت کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔

اسی طرح عمران خان کے معاملے میں بھی حکومت کو تمام سوالات کا واضح جواب دینا چاہیے۔ اگر وہ طبی طور پر فِٹ ہیں تو مکمل میڈیکل رپورٹ کے بنیادی نتائج شفاف طریقے سے کیوں نہیں بتائے جاتے؟ اور اگر طبی ماہرین مزید علاج ضروری سمجھتے ہیں تو انہیں مناسب طبی سہولت کیوں نہ دی جائے؟

یہ معاملہ نواز شریف بمقابلہ عمران خان کا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کے برابر حقِ علاج کا معاملہ ہونا چاہیے۔

عوام کو سیاسی انتقام نہیں، شفافیت چاہیے؛ ذاتی پسند و ناپسند نہیں، قانون کی برابری چاہیے۔

کیونکہ جس ملک میں سابق وزرائے اعظم کے علاج کے لیے بھی دو الگ معیار کا تاثر پیدا ہو جائے، وہاں سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا—اعتماد کا بن جاتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا