بچوں کو گندے پاپڑ سے ڈرانے کا انوکھا طریقہ، کیا پاکستان میں بھی ایسی آگاہی مہم ہونی چاہیے؟

0
3

سوشل میڈیا پر بھارت کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں بچوں کو غیرمعیاری اور گندے پاپڑ کھانے سے روکنے کے لیے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا گیا کہ بچے خوفزدہ ہو کر پاپڑ سے دور بھاگنے لگے۔ ویڈیو کا مقصد بظاہر بچوں کو یہ سمجھانا تھا کہ ہر چٹپٹی اور پسندیدہ چیز صحت کے لیے ضروری نہیں، بلکہ بعض اوقات یہی چیز بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

یہ طریقہ شاید سخت محسوس ہو، لیکن اس ویڈیو نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے: کیا بچوں کو غیرصحت بخش خوراک سے بچانے کے لیے اسکولوں میں مؤثر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت نہیں؟

پاکستان میں بھی بچوں میں پیکٹ والے اسنیکس، چپس، رنگ برنگی ٹافیاں، غیرمعیاری پاپڑ، میٹھے مشروبات اور دیگر جنک فوڈ کا استعمال عام ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بچے یہ چیزیں شوق سے کھاتے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے بچوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ضرورت سے زیادہ غیرصحت بخش خوراک ان کی صحت پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کو خوفزدہ کرنا مستقل حل نہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں دلچسپ، عمر کے مطابق اور سائنسی انداز میں سمجھایا جائے کہ صاف اور محفوظ خوراک کیوں ضروری ہے، پیکٹ پر درج اجزا اور تاریخِ تنسیخ کیسے دیکھی جاتی ہے، اور مشکوک یا کھلی ہوئی خوراک سے کیوں احتیاط کرنی چاہیے۔

حکومت اگر چاہے تو اسکولوں میں ایک باقاعدہ Healthy Food Awareness Campaign شروع کر سکتی ہے۔ مختصر کارٹون ویڈیوز، مزاحیہ اشتہارات، اسکول اسمبلی میں آگاہی، صحت مند ٹفن مقابلے اور والدین کے لیے معلوماتی پیغامات کے ذریعے بچوں کو یہ بات آسان انداز میں سمجھائی جا سکتی ہے۔

یہ ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ حالیہ برسوں میں اسکولوں میں غیرمعیاری کھانے سے متعلق مختلف واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ بھارت میں بھی حالیہ دنوں اسکول کے کھانے کے معیار پر شکایات کے بعد کارروائی کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر طلبہ کے بیمار ہونے کے واقعات نے فوڈ سیفٹی کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پاکستان میں بھی والدین، اساتذہ اور حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ بچے کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ چیز مت کھاؤ؛ اسے یہ بھی بتایا جائے کہ کیوں نہ کھاؤ اور اس کا بہتر متبادل کیا ہے۔

اس لیے اگر کسی ویڈیو یا مہم کا مقصد بچوں کو ڈرانا نہیں بلکہ انہیں محفوظ اور صحت مند خوراک کی طرف راغب کرنا ہے تو اسے مثبت انداز میں اپنایا جا سکتا ہے۔

آخرکار مقصد پاپڑ سے بچوں کو ڈرانا نہیں، بلکہ بچوں کو اپنی صحت کے بارے میں سمجھدار بنانا ہونا چاہیے۔

اور شاید یہی وہ اصلاحی مہم ہے جس کی ہمارے اسکولوں میں آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا