اسلام آباد میں فائر سیفٹی کی خلاف ورزی، 8 اہم عمارتیں سیل

0
3

اسلام آباد میں شہریوں اور عمارتوں میں کام کرنے والے افراد کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کے معاملے میں بڑا ایکشن سامنے آیا ہے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، یعنی CDA، نے فائر اور لائف سیفٹی کے لازمی تقاضے پورے نہ کرنے پر وفاقی دارالحکومت کی آٹھ عمارتیں سیل کر دی ہیں۔

سیل کی جانے والی عمارتوں میں شہیدِ ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان یعنی TDAP کی عمارت، بیورلی سینٹر، NIC بلڈنگ، کراؤن پلازہ، خداداد ہائٹس پلازہ اور اینوائے کانٹی نینٹل ہوٹل شامل ہیں۔

CDA کے مطابق یہ کارروائی ان عمارتوں میں فائر سیفٹی سے متعلق پہلے سے سامنے آنے والی خامیوں کو مقررہ وقت میں دور نہ کیے جانے کے بعد کی گئی۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے عمارتوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے، جس میں فائر فائٹنگ آلات، فائر ڈیٹیکشن اور الارم سسٹم، ایمرجنسی لائٹس، ایگزٹ سائنز، ہنگامی راستوں اور عمارت خالی کرانے کے انتظامات کو خصوصی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس کارروائی کا دائرہ صرف چند عمارتوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ CDA نے اسلام آباد بھر میں فائر سیفٹی انسپیکشنز کا سلسلہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری، تجارتی اور نجی عمارتوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر فائر اور لائف سیفٹی کے تمام مطلوبہ انتظامات مکمل کریں، بصورت دیگر مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی مہم کے دوران تین بڑے سرکاری ہسپتالوں—کیپیٹل ہسپتال، پولی کلینک اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS)—پر بھی فائر سیفٹی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جرمانوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ متعدد تازہ رپورٹس کے مطابق ہر ادارے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، تاہم اس تفصیل کی سرکاری دستاویز سے مزید تصدیق ضروری ہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں PIMS میں ایک المناک آتشزدگی کے بعد فائر سیفٹی انتظامات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے؛ عرب نیوز کے مطابق اس واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔

CDA حکام کا مؤقف ہے کہ عمارتوں کو سیل کرنے کا بنیادی مقصد کسی کاروبار یا ادارے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ اور حفاظتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر اتنی اہم اور بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی تقاضے بروقت پورے نہیں کیے گئے تو نگرانی کا نظام پہلے کہاں تھا؟ کیا عمارتوں کو کسی بڑے حادثے کے بعد سیل کرنے کے بجائے باقاعدگی سے چیک کیا جانا چاہیے؟

اسلام آباد جیسے دارالحکومت میں فائر سیفٹی محض ایک قانونی شرط نہیں بلکہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے۔ ایک معمولی شارٹ سرکٹ، آگ یا دھویں کا واقعہ اس وقت بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتا ہے جب عمارت میں مناسب فائر فائٹنگ آلات، واضح ایمرجنسی راستے اور فوری انخلا کا انتظام موجود نہ ہو۔

اب ضرورت صرف عمارتیں سیل کرنے کی نہیں بلکہ یہ یقینی بنانے کی ہے کہ تمام خامیاں مقررہ مدت میں دور ہوں، دوبارہ معائنہ کیا جائے اور جو عمارتیں حفاظتی معیار پر پوری اتریں انہیں ہی دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے۔

کیونکہ فائر سیفٹی میں غفلت کا نقصان صرف عمارت کو نہیں، انسانی جانوں کو ہوتا ہے—اور انسانی جان کسی بھی عمارت، ادارے یا کاروبار سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا