بابوسر ٹاپ پر مبینہ مسلح ڈکیتی، طالب علم کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی چھین لیا گیا، سیاحوں کے تحفظ پر سوالات

0
3

گلگت بلتستان کے معروف سیاحتی مقام بابوسر ٹاپ پر مبینہ مسلح ڈکیتی کے واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ علاقے میں آنے والے سیاحوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

گلگت سے تعلق رکھنے والے طالب علم طارق وزیر نے حکومت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ گاڑی نمبر BMG-115 میں گلگت سے اسلام آباد جا رہے تھے کہ بابوسر ٹاپ کے قریب مبینہ طور پر تقریباً 10 مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک لی۔

متاثرہ طالب علم کے مطابق مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر قیمتی سامان کے ساتھ ان کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بھی چھین لیا۔ طارق وزیر کا کہنا ہے کہ ان کی 2 ستمبر کو بیرونِ ملک پرواز مقرر ہے اور سفری دستاویزات چھن جانے کے باعث ان کی تعلیم اور بیرونِ ملک روانگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متاثرہ طالب علم نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات کے حصول میں مدد فراہم کی جائے۔

یہ واقعہ ایک ایسے مقام پر مبینہ طور پر پیش آیا ہے جہاں ہر سال ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ بابوسر ٹاپ صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے روزگار کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہوٹل، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، جیپ سروس، دکانیں اور دیگر کاروبار بڑی حد تک سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہیں۔

ایسے میں اگر سیاحوں کو راستے میں مسلح افراد کے ہاتھوں لوٹ مار یا عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے اثرات صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہتے۔ یہ پورے علاقے کے سیاحتی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔

تاہم اس وقت یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ دس رکنی گروہ یا کسی منظم ڈکیتی گینگ کی موجودگی کے دعوے کی حتمی تصدیق متعلقہ پولیس اور انتظامیہ کی تحقیقات کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ اگر تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ واقعی ایک منظم گروہ سیاحوں اور مسافروں کو نشانہ بنا رہا ہے تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگی۔

حکام کے لیے اب اصل امتحان یہی ہے کہ وہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کریں، متاثرہ طالب علم کو سفری دستاویزات کے حصول میں ہر ممکن مدد دیں اور بابوسر ٹاپ سمیت اہم سیاحتی راستوں پر سکیورٹی کے انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔

کیونکہ سیاحت صرف خوبصورت پہاڑوں اور مناظر کا نام نہیں، سیاح کا محفوظ سفر بھی سیاحت کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

اگر بابوسر ٹاپ جیسے اہم سیاحتی راستے پر مسافروں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگیں تو حکومت کو صرف ایک واقعے کا جواب نہیں دینا ہوگا، بلکہ یہ اعتماد بھی بحال کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان آنے والا ہر سیاح اور مسافر خود کو محفوظ سمجھ سکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس مبینہ ڈکیتی کے معاملے پر کتنی تیزی سے کارروائی کرتی ہے اور کیا بابوسر ٹاپ پر آنے والے سیاحوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں یا نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا