26 اگست 2026 کو نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی اور ہمالیائی گلیشیئرز کے بڑھتے ہوئے خطرے کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق نیپال کے لانگ ٹانگ لِرونگ کے قریب ایک گلیشیئر کے حصے کے اچانک منہدم ہونے سے برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک بڑا تودہ نیچے گرا، جس کے نتیجے میں دریا میں شدید طغیانی اور تباہ کن سیلاب آیا۔ اس واقعے سے پیدا ہونے والی لرزش اتنی شدید تھی کہ اسے 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر توانائی کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔
6
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس مخصوص گلیشیئر کے انہدام کو براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے، لیکن درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، گلیشیئرز کا پگھلاؤ اور بلند پہاڑی علاقوں میں پرمافراسٹ کی کمزوری چٹانوں اور برفانی ڈھانچوں کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔ اس سے لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور اچانک سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
اس سانحے میں نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، جبکہ سڑکیں، پل، رہائشی علاقے اور اہم انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوئے۔ امدادی کارروائیاں دشوار پہاڑی علاقوں اور تباہ شدہ راستوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ واقعہ دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ آج کا بحران بن چکی ہے۔ ہمالیہ میں موجود گلیشیئرز کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کے اہم ذخائر ہیں، اور ان میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں مستقبل میں سیلاب، پانی کی قلت اور ماحولیاتی عدم توازن کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اب فوری طور پر گلیشیئرز کی نگرانی، ابتدائی وارننگ سسٹم، موسمیاتی تحقیق اور سرحد پار قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا۔
